ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مالیگاؤں بم دھماکہ معاملہ؛ کرنل پروہیت کی عرضداشت سروس مکمل نہ ہونے کی وجہ سے سماعت ٹلی؛ جمعیۃ علماء کی مداخلت کار کی درخواست عدالت میں پیش

مالیگاؤں بم دھماکہ معاملہ؛ کرنل پروہیت کی عرضداشت سروس مکمل نہ ہونے کی وجہ سے سماعت ٹلی؛ جمعیۃ علماء کی مداخلت کار کی درخواست عدالت میں پیش

Mon, 05 Mar 2018 22:33:49    S.O. News Service

ممبئی۵؍ مارچ (ایس او نیوز/پریس ریلیز)  مالیگاؤں ۲۰۰۸ ء بم دھماکہ معاملے کے کلیدی ملزم کرنل شریکانت پروہیت کی جانب سے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کرنے والی عرضداشت پر سروس مکمل نہیں ہونے کی وجہ سے معاملے کی سماعت ٹل گئی، اسی درمیان جمعیۃ علماء نے بذریعہ ایڈوکیٹ گورو اگروال اور ایڈوکیٹ اعجاز مقبول مداخلت کار بننے کی اجازت طلب کرتے ہوئے عرض داشت عدالت میں داخل کی ہے جس پر کارروائی معاملے کی اگلی سماعت پر متوقع ہے ۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں متاثرین کی نمائندگی کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔

واضح رہے کہ کرنل پروہیت نے ممبئی ہائی کورٹ میں ایک عرضداشت داخل کرکے عدالت سے درخواست کی تھی کہ اس پر غیر قانونی سرگرمیوں کے روک تھام والے قانون یعنی UAPAکے تحت مقدمہ نہیں بنتا ہے کیونکہ اس کے لیئے درکار مخصوص اجازت نامہ Sanction غیر قانونی ہے کیونکہ اس کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کے لیئے ریاستی سرکار نے جون ۲۰۰۹ میں استغاثہ کو اجازت دی تھی جبکہ اکتوبر ۲۰۱۰ء میں اجازت نامہ جاری کرنے والی کمیٹی کی تقرری کی گئی تھی، حالانکہ ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے ملزم کے دلائل مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف مقدمہ چلائے جانے کی اجازت دی تھی جس کے بعد ملزم نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا ۔

واضح رہے کہ گذشتہ دسمبر میں خصوصی مکوکا و   این آئی اے عدالت نے ایک جانب جہاں ملزمین پر سے مکوکا قانون ہٹا دیا تھا وہیں ان کے خلاف یو اے پی اے قانون و دیگر قوانین کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے تھے جس کے بعد ملزمین کرنل پروہیت اور سمیر کللرنی نے ممبئی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جہاں انہیں منہ کی کھانی پڑی تھی نیز ملزمین نے ایک بار پھر ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرکے معاملے کو طول دینے کی کوشش کی ہے ۔


Share: